Skip to main content

مسافر قسط نمبر 1

مسافر۔۔۔۔قسط 1
(ستونت کور)
وہ ایک سہانی صبح تھی جب میں اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر چائے پینے کے ساتھ ساتھ اخبار کا مطالعہ کررہی تھی۔ شہ سرخی تھی "پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے دو جنگی طیارے مارگرانے کا دعوی کیا ہے۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی فضائی حدود میں گرایا گیا۔ تباہ شدہ طیارے کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس کی شناخت ونگ کمانڈر ابھینندن پتا چلی ہے... " ساتھ ہی تباہ شدہ طیارے اور گرفتار پائلٹ کی تصاویر دی گئی تھیں۔
ایک دوسری خبر تھی "عالمی طاقتوں نے پاکستان اور بھارت سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ہردو ممالک میں کشیدگی مزید بڑھی تو ایک فل سکیل جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے جس کا انجام ایٹمی جنگ اور ایک عالمگیر بحران کی صورت میں نکل سکتا ہے"۔
"اففف یہ جنونی ہمسائے۔۔۔۔یہ لوگ جنگ چھیڑدیں گے اور نتیجہ نیوکلیر ونٹر کی صورت نکلے گا اور ہمارا سارے کا سارا مشن فلاپ۔ جس پر اب تک بہت بھاری سرمایہ لگ چکا ہے اور پوری دنیا میں ہزاروں ایجنٹوں کی تعیناتی اور کئی سال کی محنت پر بیٹھے بٹھائے پانی پھر جائے گا"۔ میں نے سوچا۔
میں اپنا تعارف کروانا تو بھول ہی گئی۔۔۔میرا نام "ستی" ہے۔ لیکن میں وہ ستی نہیں جس کا ذکر آپ "وقت کے قیدی" میں پڑھ چکے ہیں۔۔۔
مجھے پاکستان آئے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں۔ اور میں اسلام آباد کے ایک فور سٹار ہوٹل میں بطور "ریونیو مینجر" کام کررہی تھی۔۔۔پاکستان سے قبل میں کچھ عرصہ"سوئٹزرلینڈ" میں مقیم رہی۔۔۔اور اس سے قبل میری تب تک کی زندگی "اپنے وطن" میں گزری تھی۔۔۔مجھے اپنا وطن اپنی سرزمین اپنے ماں باپ بہن بھائیوں اپنے دوستوں اور اپنے گھر کو چھوڑے تین سال بیت چکے تھے۔ ابھی تک میرا نہ تو ان سب سے کوئی رابطہ ہوپایا تھا۔۔۔اور نہ ہی وطن واپسی تک کوئی رابطہ ممکن تھا۔۔۔انہیں تو یہ تک نہیں پتا تھا کہ مجھے کس مشن پر اور کہاں بھیجا جارہا ہے۔۔۔اور جس مشن پر مجھے بھیجا گیا تھا اس سے زندہ لوٹنے کے امکانات بہت کم تھے۔۔میں جس ہوٹل میں جاب پر تھی وہ بھی اسی سوئس کمپنی کی ملکیت تھا جس کے ذریعے میں پاکستان پہنچی تھی۔۔۔اور یہ جاب میرے لیے Espionage کا کور تھی۔۔۔۔
میں پاکستان میں GLO کی مشن انچارج کے طور پر تعینات تھی۔ یہ کام انتہائی Sensitive ہونے کے ساتھ ساتھ بیحد خطرناک بھی تھا۔ کیونکہ کوئی ملک یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی بیرونی خفیہ ایجنسی اسکی حدود میں آپریٹ کرے۔۔۔۔مجھے اس بات کا خوب ادراک تھا کہ اگر میں پاکستانی ایجنسیوں کی نظر میں آگئی تو مجھے گرفتاری اور تشدد سے بچنے کے لیے خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کرلینا ہوگا۔
آرمی اور پھر سپیشل فورسز کی ایک خفیہ برانچ GLO کو جوائن کرنا کوئی میرا بچپن کا شوق یا شدت کی خواہش نہ تھی۔۔۔بلکہ میری زندگی میں رونما ہونے والے ایک دردناک حادثے نے مجھے اس راہ پر ڈال دیا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے میں ماضی کی یادوں میں ڈوبتی چلی گئی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(سات سال پہلے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میرا وطن میری جنت ہے۔۔۔میرا وطن میری راحت ہے
میرا وطن ہی میرا سفر ہے۔۔۔اور یہی وطن میری منزل ہے"
میں اور میرے یونیورسٹی فیلوز یونیورسٹی کے اس فنکشن کی شروعات میں اپنی زبان میں "قومی ترانہ" پڑھ رہے تھے۔ جس کے اختتام پر پرچم کو سلامی(سلیوٹ) دی گئی اور سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔۔۔۔
یہ تب کی بات ہے جب میں 18 سال کی ایک کمزور دل اور جذباتی مگر ہونہار لڑکی ہوا کرتی تھی۔۔میڑک اور پھر انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کے بعد اب میں "یونیورسٹی آف ایڈوانس سائنسز" میں "انوائرمینٹل سائنسز" کی طالبہ تھی۔
بھلے ہی ہمارے ملک میں میڈیکل سہولیات اور بجلی مفت تھی لیکن تعلیمی اخراجات بہرحال سب عوام کو خود ہی برداشت کرنے پڑتے تھے۔۔۔میرے ابو مقامی پولیس میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھے۔اسلیے مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو کبھی تعلیمی اخراجات کی مد میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔۔۔میرا وطن ایک انتہائی خوشحال اور پرامن دیس تھا۔۔۔جہاں شرح خواندگی 97 فیصد اور شرح بیروزگاری 2 فیصد سے بھی کم تھی۔۔۔تعلیم اور صحت کی بہترین سہولیات۔ کرپشن کے واقعات انتہائی شاذ و نادر تھے۔ عدالتوں اور انصاف کا نظام عمدہ اور جرائم کی شرح بہت کم ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی مکمل استحکام تھا۔
لیکن۔۔۔وہاں بھی کچھ معاملات قابل تشویش تھے۔
ہمیں پانی کی شدید قلت کا سامنا تھا۔ پچھلے 20 برس سے بارشیں بہت ہی کم ہورہی تھیں جس سے زیر زمین پانی اور پینے کے پانی کی مقدار بری طرح سے متاثر ہو چکی تھی۔ ہمارے سائنسدانوں نے اس سلسلے میں سرتوڑ کوششیں کرکے بہت سے کامیاب حل تلاش کیے تھے جیسے 80 فیصد پانی کو ری سائکل کرنا اور اسی سے فصلوں کو زیرزمین نلکی نما چھوٹے پائپوں کے سسٹم کے ذریعے سیراب کرنا۔۔۔پانی کی ویپریشن کا حتی الامکان تدارک اور صبح کے وقت پڑنے والی شبنم کے قطروں کو محفوظ کرنے کے سسٹمز کے ساتھ ساتھ ملک میں کئی مقام پر پہاڑوں سے رواں نمک آلود پانی کے چشموں سے پانی حاصل کرکے اسے فلٹر کرکے استعمال کرنا۔۔۔لیکن یہ سب بھی عارضی حل تھے۔۔ہمیں کوئی مستقل حل چاہیے تھا۔۔۔یا پھر باران رحمت کی ضرورت تھی۔
اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے "انوائرمینٹل" سائنسز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔۔۔مگر میری قسمت میں شاید اس سے بڑا کوئی مقصد لکھ دیا گیا تھا۔
پانی کے مسلے کے ساتھ ایک اور قابل تشویش بات ملک کے کچھ حلقوں میں محسوس کی جارہی تھی۔ مگر بہت ہی کم لوگ لوگ تھے جن کی اس طرف توجہ تھی۔۔۔اور یہ قابل تشویش بات ہماری نئی حکومت کا کچھ پراسرار رویہ تھا۔
بھلے ہی اس حکومت نے ہمارے ملک کو بے شمار مسائل سے نکال کر ایک مثالی پرامن اور خوشحال ملک میں بدل دیا تھا۔ لیکن اس حکومت جس کے سربراہ "جنرل اردلان" تھے نے دو نئی تبدیلیاں عمل میں لائی تھیں۔
پہلی تبدیلی عوام کو اکثریت حکومتی معاملات، پارلیمنٹ کے اجلاس، حکومت کے ترقیاتی پراجیکٹس، سپیس پروگرامز اور دیگر معاملات سے مکمل طور پر اندھیرے میں رکھنا تھا۔ حکومت جن پراجیکٹس پر کام کر یا کروارہی تھی ان کی عوام کو بھنک بھی نہیں لگنے دی جاتی تھی۔ماسوائے ان پراجیکٹس کے جن کا عوام کے ساتھ براہ راست تعلق ہوتا۔ نہ ہی میڈیا پر کوئی بات آنے دی جاتی تھی۔۔۔اور میڈیا تھا ہی کیا 10 عدد سرکاری ٹی وی چینلز 1 سرکاری ریڈیو سٹیشن اور دو سرکاری اخبارات ہی اس ملک میں میڈیا کا درجہ رکھتے تھے۔
لیکن عوام نے کبھی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔۔۔اور بھلا کوئی ان باتوں پر سوچتا ہی کیوں۔۔۔روٹی کپڑا مکان تعلیم صحت انصاف تفریح سب کچھ تو عوام کو یکساں طورپر میسر تھا۔ کسی کو یہ خدشہ نہیں تھا کہ اس کے ٹیکس کی رقم غلط ہاتھوں میں جارہی ہے۔ الغرض عوام دل و جان کے ساتھ حکومت کی حامی تھی۔
دوسری بڑی تبدیلی تھی ملٹری فورسز کا قیام۔۔۔دس سال قبل تک ہمارے وطن میں ملٹری کا مطلب صرف پولیس ہوا کرتا تھا۔ نہ تو ہمارے کوئی دشمن ممالک تھے نہ ہی ہم نے کبھی کوئی جنگ لڑی تھی پھر فوج کی ضرورت کسے پڑتی۔
مگر دس سال قبل "جنرل اردلان" جو کہ تب "پریزیڈنٹ اردلان" کہلاتے تھے نے قوم سے ایک اہم خطاب کیا اور بتایا کہ ان کا ملک جلد ایک طاقتور فوج کی تشکیل کرنے جارہا ہے ۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ لاء انفورسمنٹ اداروں کو ملک کے کچھ دشمن عناصر کی جارحانہ سرگرمیوں کی پلاننگ کے ٹھوس اطلاعات ملی ہیں۔ اس سے قبل کہ ملک دشمن عناصر طاقت پکڑ لیں۔ ہمیں خود کو اتنا طاقتور بنانا ہوگا کہ ہم کسی بھی جارحیت یا بغاوت کا بروقت مقابلہ اور سدباب کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے میں آج سے ناصرف اپنی مسلح افواج کی تشکیل کا اعلان کرتا ہوں۔ بلکہ یہ خوشخبری بھی سناتا ہوں کہ ہم دارالحکومت سے 400 کلومیٹر فاصلے پر ایک جدید اور بہترین ملٹری ٹریننگ اکیڈمی اور ساتھ ہی ایک "ائیر فورس ٹریننگ اکیڈمی" کی تعمیر مکمل کرچکے ہیں۔۔یاد رہے ہمارا ملک اب تک جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل 6 مختلف قسم کے طیاروں پر کام مکمل کرچکا ہے۔۔۔ ان ملٹری اکیڈمیز کا افتتاح اگلے ہفتے کیا جائے گا۔ اور اگلے مہینے سے کیڈٹس کے پہلے بیچ کی ٹریننگ کا آغاز ہوجائے گا"۔۔۔۔۔اگلے دو سال میں مسلح افواج اور سپیشل فورسز کا پہلا دستہ ملٹری اکیڈمی سے پاس آوٹ ہوچکا تھا۔
پہلے پہل تو عوام کو حکومت کا یہ فیصلہ احمقانہ غیر ضروری اور سرمایے کا ضیاع محسوس ہوا اور اس کے خلاف کچھ آوازیں بھی اٹھیں۔۔۔لیکن اس فیصلے کے ٹھیک پانچ سال بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے عوام کا حکومت اور حکومت کے اس فیصلے پر کامل اعتماد قائم ہوگیا۔۔۔
تب میں 13 سال کی بچی تھی۔ ہمارا گھر دارالحکومت کے ایک پوش علاقے میں واقع تھا۔ رات کے 12 بجے پورا دارالحکومت اندھادھند فائرنگ اور دھماکوں کی خوفناک آوازوں سے گونج اٹھا۔۔۔یہ آوازیں پورے شہر میں لاتعداد مقامات پر وقفے وقفے سے گونجنا شروع ہوچکی تھیں۔
گھبرائی ہوئی عوام نے ان آوازوں سے جاگتے ہی ٹیلی ویزن آن کیے جہاں سب کے سب چینلز پر ایک ہولناک خبر گردش کررہی تھی کہ سینکڑوں کی تعداد میں مسلح افراد نے دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات پر دھاوا بول دیا ہے۔ انہوں نے پولیس سٹیشنز، سرکاری دفاتر، اہم شاہراہوں، پلوں اور چوکوں پر قبضہ کرلیا ہے جہاں پولیس فورسز کی ان سے گھمسان کی جھڑپیں ہورہی ہیں۔ تبھی فضا میں کچھ جنگی طیاروں کی نیچی پرواز کی آوازیں گونجیں اور ہماری کالونی سمیت دارالحکومت کے کئی مقامات بمباری کے دل دھلا دینے والے دھماکوں سے لرز گئے۔
ہمارے گھر کے قریب ہی کسی عمارت پر بمباری کی گئی تھی۔ جوکہ دارالحکومت کے پولیس چیف کا بنگلہ تھا۔ میرے ابو جو کہ پولیس آفیسر تھے ہمارے لاکھ منع کرنے کے باوجود اپنا پسٹل اٹھا کر باہر نکل گئے اور میں امی اور میرے بہن بھائی شدید خوف میں مبتلا ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہ گئے تاکہ "بغاوت" کے تازہ ترین حالات سے باخبر رہ سکیں۔
اب ٹی وی چینلز یہ خبر نشر کررہے تھے کہ "وائیٹ وولف" نامی ایک مسلح تنظیم نے اس بغاوت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹ کر ملک کا اقتدار سنبھالنے سے محض چند گھنٹے دور ہیں۔۔۔صدارتی محل کے نواح میں بھی باغیوں اور سکیورٹی دستوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔۔۔دشمن کو ائیرفورس کے کچھ طیاروں کی بھی سپورٹ حاصل ہے جنہیں کچھ غدار پائلٹس آپریٹ کررہے ہیں۔"
تبھی جنگی طیاروں کی گرج کی دوبارہ آواز آئی لیکن اس مرتبہ وہ طیارے بغیر بمباری کیے کالونی پر سے گزر گئے۔۔۔۔"شاید یہ طیارے ہماری ائیر فورس کےہیں جو باغی طیاروں کا سدباب کرنے نکلے ہیں" امی نے کہا۔
اسی دوران ٹی وی پر اینکر نے بتایا کہ"ہماری مسلح افواج کے دستے اب دارالحکومت میں داخل ہورہے ہیں۔۔۔سب عوام حوصلہ رکھیں اور اپنے گھروں میں ہی ٹکے رہیں۔ ہمارے طیاروں نے دارالحکومت کی فضاوں میں باغیوں کے 7 طیاروں کو مارگرایا ہے۔۔۔صدر مملکت سمیت تمام اہم حکومتی شخصیات کو محفوظ مقامات کی طرف اویکویٹ کرلیا گیا یے"۔
"ناظرین انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ باغیوں کا ایک دستہ ہماری چینل کی عمارت پر دروازوں تک پہنچ چکا ہے ہمیں فوری طور پر نشریات بند کرنی پڑرہی ہیں۔۔۔۔"اینکر نے کہا اور کچھ دیر بعد نشریات منقطع ہوگئیں۔
ہماری وہ پوری رات جاگتے ہوئے اور خوف و خدشات کے سمندر میں ڈوبتے ابھرتے گزری۔
اگلی صبح ابھی تک شہر کے کئی مقامات پر فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری تھا۔
دن 12 بجے صدر مملکت سر اردلان نے اعلان کیا کے پولیس ائیر فورس اور مسلح فوج نے اکثریت باغیوں کو قتل اور کئی کو گرفتار کرلیا ہے اور بغاوت کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے۔
اس خونی رات میں 500 کے قریب لوگ مارے گئے 1 ہزار کے قریب زخمی ہوگئے۔۔۔۔بعد کی تحقیقات سے پتا چلا کہ اس بغاوت میں کئی پولیس افسر کچھ سائنسدان کچھ سرکاری افسر اور کچھ فوجی افسر بھی شامل تھے۔۔۔ایک اور تشویشناک بات یہ پتا چلی کہ باغیوں کی قیادت کے 90 فیصد عناصر غائب ہیں یعنی وہ نہ تو قتل ہوئے نہ ہی گرفتار بلکہ وقت رہتے فرار ہوگئے ۔۔۔ مگر کہاں؟ اس کا جواب آج تک نہیں پتا چل پایا۔۔۔۔ لیکن میرے لیے تو اتنا ہی کافی تھا کہ پاپا رات کے آپریشن میں شرکت کے باوجود صحیح سلامت ہم میں موجود تھے۔
اس واقعہ کے بعد عوام کو فوج کی اہمیت کا خوب اندازہ ہوگیا۔۔۔ملک پھر سے نارمل زندگی کی طرف لوٹ آیا اور عوام نے اپنی حکومت کی فتح کا جشن منایا۔ تمام تعلیمی اداروں میں شہداء کو خراج تحسین پیش کیاگیا اور ان کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔
خیر یہ تو تب کی بات تھی۔۔۔ میں بات کررہی تھی یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کی۔۔۔سب کچھ نارمل چل رہا تھا پھر ایک روز میری زندگی میں وہ حادثہ پیش آیا جس نے میری زندگی کا راستہ ہی بدل دیا۔
اس دن میں معمول کی کلاسز کے بعد گھر واپس پہنچی اور حسب معمول امی سے سلام دعا کی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور بس مجھے دیکھتی ہی رہیں۔
"ماما آج بہت تھک چکی ہوں۔ بھوک بھی نہیں ہے۔ لنچ نہیں کرنا بس کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں" میں نے امی سے کہا۔۔۔جس پر امی نے آگے بڑھ کے مجھے سینے سے لگایا اور میرے سر پے ہاتھ پھیرنے لگیں۔ مگر بولیں کچھ نہیں۔۔۔ان کا یہ رویہ معمول سے ہٹ کے تھا۔
"امی کیا ہوا ہے سب خیریت تو ہے ناں۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔
"ستی بیٹا۔۔۔۔بہت افسوسناک خبر ہے۔ حوصلے سے کام لینا" امی نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے۔۔۔)

Comments

Popular posts from this blog

ھا مسافر اردو ناول ناول.....مسافر مکمل ناول لنک مصنفہ......ستونت کور #ستی ایک مکمل نئی سٹوری اور پلاٹ پر مبنی نئے ناول پر کام شروع کردیا۔ جو کہ ایک ایکشن +سائنس فکشن +جاسوسی+ لو سٹوری پر مبنی ناول ہے۔ اس ناول میں آپکو ملٹری، سپیشل فورسز، خفیہ ایجنسیز اور ان کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلا ان معلومات کا علم ہوجائے گا جو آپ کو کسی کتاب۔۔کسی ڈاکومینٹری یا کسی ٹی وی پروگرام سے اکھٹی نہیں حاصل ہوسکتیں۔ " "مسافر" جنگ عظیم سوم سے متعلق ہے جو مستقبل ہے۔ سو۔۔۔ستی از بیک ان ایکشن۔ اس ناول میں آپکو سنائپر ناول کی طرح کیڈٹس کی تیاری تربیت اور اسلحہ کے بارے میں مکمل اور درست معلومات ملیں گی.... ناول کے ساتھ اپکی سپیشل فورسز انٹیلیجنس اور اسلحے کے متعلق بہت ساری معلومات میں بھی اضافہ ہوگا ..... ناول پڑھنے کیلئے ہمیں فالو کرلیں....شکریہ مسافر۔۔۔قسط 5 (ستونت کور) ایک پورے دن کے وقفے کے بعد ہماری "ایڈوانسڈ ملٹری ٹریننگ" کا آغاز ہورہا تھا۔ ایک تبدیلی یہ آئی کہ اب ہمیں مزید اکیلا بھی نہیں رہنا پڑنا تھا۔ بیسک ملٹری ٹریننگ مکمل کرچکی سب کیڈٹس کو نئے...

مسافر۔۔۔قسط 3

مسافر۔۔۔قسط 3 (ستونت کور) وہ ساری رات میں نے جاگتے اور یہی سوچتے گزاردی کہ مجھے بھی آرمی کے لیے اپلائے کردینا چاہیے۔ "میں سنان کو واپس تو نہیں لاسکتی لیکن اس کے قاتلوں سے انتقام ضرور لے سکتی ہوں۔.اور اس کا ادھورا مشن مکمل کرسکتی ہوں۔۔۔اگر میں آرمی میں نہ گئی تو سنان کی موت پوری زندگی میرے لیے ایک معمہ ہی بنی رہے گی۔ میں کبھی یہ نہیں جان پاؤں گی کہ سنان کس مشن پر اور کہاں تعینات تھا اور اسکی موت کیسے واقع ہوئی" میں سوچ رہی تھی۔ صبح ناشتے پر کئی دن بعد میں ڈائننگ ٹیبل پر پہنچی۔۔سب نے مجھے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا یہ سوچ کے کہ میں اس شاک سے سنبھل چکی ہوں۔ میں ایک چیئر پر بیٹھ گئی لیکن کھانے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ "ستی بیٹا کچھ لو ناں" امی نے کہا۔ "مجھے بھوک نہیں" میں نے جواب دیا۔ "یہ جملہ پچھلے 7 دن میں کوئی ستر دفعہ تم سے سن چکی ہوں۔ پر جینے کے لیے کھانا تو پڑتا ہی ہے بھلے ہی کوئی کتنا بھی ڈیپریسڈ کیوں ناں ہو" امی نے کہا۔ "ابو۔۔۔" میں نے ابو کو پکارا۔ "جی بیٹا" انہوں نے جواب دیا۔ "میں ...