مسافر۔۔۔قسط 3
(ستونت کور)
وہ ساری رات میں نے جاگتے اور یہی سوچتے گزاردی کہ مجھے بھی آرمی کے لیے اپلائے کردینا چاہیے۔
"میں سنان کو واپس تو نہیں لاسکتی لیکن اس کے قاتلوں سے انتقام ضرور لے سکتی ہوں۔.اور اس کا ادھورا مشن مکمل کرسکتی ہوں۔۔۔اگر میں آرمی میں نہ گئی تو سنان کی موت پوری زندگی میرے لیے ایک معمہ ہی بنی رہے گی۔ میں کبھی یہ نہیں جان پاؤں گی کہ سنان کس مشن پر اور کہاں تعینات تھا اور اسکی موت کیسے واقع ہوئی" میں سوچ رہی تھی۔
صبح ناشتے پر کئی دن بعد میں ڈائننگ ٹیبل پر پہنچی۔۔سب نے مجھے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا یہ سوچ کے کہ میں اس شاک سے سنبھل چکی ہوں۔
میں ایک چیئر پر بیٹھ گئی لیکن کھانے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔
"ستی بیٹا کچھ لو ناں" امی نے کہا۔
"مجھے بھوک نہیں" میں نے جواب دیا۔
"یہ جملہ پچھلے 7 دن میں کوئی ستر دفعہ تم سے سن چکی ہوں۔ پر جینے کے لیے کھانا تو پڑتا ہی ہے بھلے ہی کوئی کتنا بھی ڈیپریسڈ کیوں ناں ہو" امی نے کہا۔
"ابو۔۔۔" میں نے ابو کو پکارا۔
"جی بیٹا" انہوں نے جواب دیا۔
"میں آرمی جوائن کرنا چاہتی ہوں" میں نے کہا۔۔۔ابو کے ہاتھ سے کافی کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ امی کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا۔
"ستی بیٹا کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔اچھی بھلی تمہاری سٹڈیز جاری تھیں۔ تم ایک اچھا کیریر بنا سکتی ہو۔ میں نے اس لیے پوری زندگی اتنی محنت کی کہ میرے اولاد کو سکون کی زندگی میسر ہو اور تم خود اپنے آپ کو ایک مشکل اور تکلیف دہ شعبے میں جھونکنے کا سوچ رہی ہو" ابو نے کہا۔
" بیٹا تم نے اس شعبے میں جانے کا سوچ بھی کیسے لیا؟ تمہارے سامنے اسی کام میں تمہارے منگیتر کی ڈیتھ ہوئی ہے" امی نے کہا۔
۔۔۔ہماری بحث کافی دیر تک جاری رہی اور پھر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی اور میں واپس اپنے کمرے میں آکے اپنے پسندیدہ مشغلے یعنی رونے میں مصروف ہوگئی۔
کئی دن تک ہمارے گھر میں ایسا ہی تناو بھرا ماحول رہا۔ اور دن بہ دن میری طبیعت مزید بگڑنے لگی۔
آخر کار میری حالت کو دیکھتے ہوئے میرے والدین کو میری ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی پڑے اور مجھے آرمی کے لیے اپلائے کرنے کی اجازت مل گئی۔
ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد میں نے دوبارہ یونیورسٹی جانا شروع کردیا۔۔۔۔چوتھے سمیسٹر کے امتحانات مکمل ہونے پر میں نے رزلٹ کا انتظار کیے بغیر آرمی کے لیے اپلائی کردیا۔
حسب توقع تین دن بعد ہی ٹیسٹس کی تاریخ اور مقام پر مبنی کال موصول ہوگئی۔
مقررہ دن صبح صبح میں ابو کے ساتھ ان کی کار میں دارالحکومت میں قائم "آرمی ریکروٹنگ سینٹر" پہنچ گئی۔
اس دن مجھے سنان کی بتائی ہوئی اس بات کا شدت سے اندازہ ہوا کہ ہمارا ملک ایک طاقتور ترین اور بڑی فوج کی تشکیل میں مصروف ہے۔۔۔۔لیکن کیوں؟ یہ سوال ابھی لمبے عرصے تک تشنہ ہی رہنا تھا۔
ٹیسٹس کی نوعیت ایسی تھی گویا سپاہیوں نہیں افسروں کی بھرتی کی جارہی ہو۔ دوسرے الفاظ میں جنرل اردلان یہ چاہتے تھے کہ ان کی فوج کا ہر جوان ایک "ون مین آرمی" کا کردار ادا کرے۔
پہلے ٹیسٹس کمپیوٹر سکرین پر حل کیے جانے والے کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل تھے۔ جنہیں میں نے بغیر مشکل کے باآسانی حل کرلیا۔اس ٹیسٹ کی تکمیل کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد کامیاب امیدواروں کو فزیکل ٹیسٹس کے لیے سینٹر کے میدان میں بھیج دیا گیا۔۔۔ یہ امتحان قدرے سخت تھا جو 10 منٹ میں 2 کلومیٹر دوڑ(میلز کے لیے 8 منٹ) اور اس کے علاوہ دیے گئے وقت میں مخصوص تعداد میں پش اپس،سٹ اپس، چن اپس اور بھاگ کر 7 فٹ لمبی اور 4 فٹ گہری کھائی پھلانگنے پر مشتمل تھا۔
اگلا مرحلہ میڈیکل ٹیسٹس پر مشتمل تھا جس میں تمام امیدواروں کی آئی سائٹ، وزن، ہائیٹ ، بلڈ اور دیگر بنیادی جسمانی ٹیسٹ کیے گئے اور کامیاب امیدواروں کو FIT کی پرچی تھما کر انٹرویو کی تواریخ سے آگاہ کردیا گیا۔
یہ انٹرویو بھلے ہی مشکل نہیں ہوتا مگر کنفوزنگ اور پیچیدہ ضرور ہوتا ہے جس میں آفیسر گھما پھرا کر ایسے سوالات پوچھتا ہے جس میں امیدوار کی قابلیت، خود اعتمادی، برداشت اور حاضر جوابی کا اندازہ ہوسکے۔
جس دن مجھے "جوائننگ لیٹر" ملا اس نے میں نے سنان کی وفات کے بعد پہلی مرتبہ کوئی خوشی محسوس کی۔
اس لیٹر پر مقررہ تاریخ پر ملٹری اکیڈمی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کے ساتھ اس سامان کی لسٹ دی گئی تھی جو وہاں ساتھ لے کر جانا تھا۔۔۔۔اسی مہینے کی 15 تاریخ میں اپنے خاندان،رشتے داروں، اساتذہ، کلاس فیلوز اور سب جاننے والوں کو الوداع کہہ کر نئی راہوں کی مسافر بن گئی۔
مجھے ملٹری اکیڈمی تک پہنچانے کی ذمہ داری ابو نے ایمر کے ذمہ لگائی۔۔۔صبح کے وقت ہم روانہ ہوگئے۔ ملٹری اکیڈمی دارالحکومت 400 کلومیٹر فاصلے پر واقع تھی۔۔۔5 گھنٹوں بعد ہماری کار ملٹری اکیڈمی سے ایک کلومیٹر فاصلے پر اس انٹرینس مقام پر پہنچ گئی جہاں سے آگے غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع تھا۔۔۔میں نے کار سے اتر کر اپنا بیگ سنبھالا۔
"اوکے ستی بیسٹ آف لک۔۔۔امید ہے جیسے میں آج تمہیں یہاں بطور کیڈٹ ڈراپ کرنے آیا ہوں ایسے ہی ایک دن بطور آرمی آفیسر یہیں تمہیں pick کرنے آؤں گا" ایمر نے مجھے الوداع کہتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔
"مجھے اتنا تو پتا ہے کہ اس دن تم نے سوچ سمجھ کر مجھے آرمی کا راستہ دکھایا۔۔۔لیکن یہ اندازہ نہیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔تو اب جبکہ میں آرمی جوائن کرچکی ہوں۔۔۔اس راز سے خود ہی پردہ اٹھادو" میں نے بے تاثر لہجے میں کہا۔۔۔جس پر وہ کچھ گڑبڑا سا گیا۔
"میں بس تمہیں ایک اچھے مقام پر فائز دیکھنا چاہتا تھا۔۔" ایمر نے کہا۔
"یقینا یہاں پر تمہیں "بیوقوف" کا لفظ لکھا ہوا نہیں نظر آرہا ہوگا" میں نے اپنے ماتھے سے بال ہٹاتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
"اوکے اوکے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ میں سنان کے قاتلوں سے انتقام لینا چاہتا تھا۔۔۔لیکن میں خود آرمی جوائن کرنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ ملک کے عسکری قوانین کے مطابق کوئی پولیس کا حاضر سروس اہلکار تب تک آرمی کے لیے اپلائی نہیں کرسکتا جب تک کہ اپنی سروس سے ریزائن نہ کردے۔ ایسی صورت میں اگر آرمی جوائنگ کے ٹیسٹس میں بھی کامیاب نہ ہوپاؤں تو پولیس اور آرمی دونوں سے ہاتھ دھوبیٹھنے کا خدشہ تھا۔ اسی لیے میں نے تمہاری جذباتی کیفیت کا اندازہ کرتے ہوئے تمہیں بروقت آرمی کی ترغیب دی تھی"ایمر نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔
"ہمممم جاب ایشو۔۔؟
گویا تمہیں اپنے بھائی سے اتنی محبت ہے کہ تم کسی بھی حال میں اس کے قاتلوں سے انتقام چاہتے ہو۔۔۔لیکن تمہیں اپنی جاب کے کھو جانے کی اس سے بھی زیادہ فکر ہے؟ تو تم نے خود پیچھے رہ کر مجھے آگے کرنے کا فیصلہ کیا۔ کہ ستی کامیاب رہتی ہے تو میرا انتقام پورا اور دل کو سکون مل جائے گا اور اگر ستی بھی سنان کی طرح ماری جائے تو میری بلا سے میری جاب کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ایمر یو نو واٹ۔۔سنان کے قاتلوں سے انتقام لینا تو اب میری ذمہ داری ہے ہی۔۔۔۔مگر۔۔۔۔تم نے اپنے بھائی کے بعد میرے دل میں موجود تمہاری عزت کو بھی ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔۔۔۔آج سے ہمارے درمیان کوئی تعلق نہیں۔۔۔گڈبائے" میں نے ایمر سے کہا اور اس کا جواب سنے بغیر انٹرنس گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
اندر قدم رکھنے سے قبل ایک لمحہ رکی۔۔۔آنکھیں بند کر کے سوچا کہ ْ"میں اپنا ماضی، سب غم دکھ خوشیاں یہیں چھوڑ کر ایک بالکل نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہی ہوں"۔
یہ سوچنے کے بعد میں نے غیراختیاری طور پر پیچھے کی طرف نظر دوڑائی جہاں ایمر بدستور اپنی کار کے پاس کھڑا تھا۔۔۔۔"
چند لمحے میں میں ملٹری اکیڈمی میں داخل ہوچکی تھی۔
جاری ہے
Comments
Post a Comment