Skip to main content

مسافر قسط 2

مسافر۔۔۔ قسط نمبر 2
(ستونت کور)
کیا ہوا ماما؟؟ میں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔
"سنان اب ہم میں نہیں رہا۔۔۔"امی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
کک کیا مطلب؟؟؟؟؟ میں نے شاک زدہ لہجے میں پوچھا۔
"سنان کی شہادت کی اطلاع آئی ہے۔ کچھ ہی دیر پہلے" امی نے کہا۔۔۔اور جیسے میرے سارے جسم سے خون نچوڑ لیا گیا ہو میں جہاں تھی وہیں ساکت رہ گئی۔
کئی منٹ تک تو میرے حواس ہی بحال نہ ہو پائے۔۔۔کافی دیر بعد میں اس قابل ہو پائی کہ آنسو بہا سکوں۔ پھر جو میرے آنسو پھوٹے تو ایسا لگا کہ ان آنسوؤں کے ساتھ میں خود بھی بہہ جاؤں گی۔۔۔۔
میرا منگیتر سنان مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور جاچکا تھا۔۔۔۔۔
سنان سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی جب ہم پہلی مرتبہ دارالحکومت میں ابو کی ٹرانسفر ہونے پر آفیسرز کالونی میں منتقل ہوئے۔۔۔سنان ابو کے ایک کولیگ کا بیٹا اور نئے کالج میں میرا کالج فیلو تھا جوکہ مجھ سے دو سال سینئیر تھا اور عمر میں تین سال بڑا تھا۔
جب میں نے کالج میں ایڈمیشن لیا تو کلاسز شروع ہوئے دو ماہ گزر چکے تھے۔ یعنی مجھے دو ماہ میں مس ہوچکا کام جلد از جلد کور کرنا تھا۔۔۔اس سلسلے میں سنان نے میری بہت مدد کی۔ فی الحقیقت نئے تعلیمی ادارے میں ایڈجسٹ ہونے میں اس نے میرا بہت ساتھ دیا تھا۔۔۔اور بہت جلد ہم اچھے دوست بن چکے تھے۔۔۔اور یہ دوستی ایک نئے رشتے کا پیش خیمہ تھی۔ وہ تعلیمی سال مکمل ہونے تک ہم سر سے پیر تک ایک دوسرے کی محبت میں ڈوب چکے تھے۔۔۔بھلے اس عمر کی محبت کا شمار اکثر "ناسمجھی" میں کیا جاتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس عمر میں انسان کے جذبات خالص اور عروج پر ہوتے ہیں۔۔۔خیر یہ بات کب تک چھپی رہ سکتی تھی۔ اس معاملے کی خبر پہلے سنان کی امی کو ہوئی اور ان کے ذریعے میری امی کو۔۔۔سنان کے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا۔ امی نے میری خوب سرزنش کی۔۔۔اور اس کے بعد ابو تک یہ اطلاع پہنچادی گئی۔۔ابو ایک سخت گیر پولیس افسر تھے لیکن گھر میں ہمارے لیے وہ بہت شفیق اور نرم دل باپ تھے۔
انہوں نے اس معاملے میں پہلے مجھ سے پوچھا کہ میں اس معاملے کو لے کے کتنی سنجیدہ ہوں؟ میرا جواب ملنے پر وہ سوچ میں پڑ گئے اور پھر بولے "میں جائزہ لیتا ہوں اس معاملے کا پھر دیکھتا ہوں کہ کیا کیا جانا چاہیے۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اگلے ایک مہینے میں میں اور سنان دونوں کے والدین کی باہمی رضامندی سے منگنی کے رشتے میں بندھ چکے تھے۔
ہم دونوں اس رشتے پر بہت خوش تھے۔ دوسرے الفاظ میں ہماری لو سٹوری کی بغیر کسی تکلیف ،اذیت یا انتظار کے "ہیپی اینڈنگ" ہوچکی تھی۔۔۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ستی۔۔۔میری تعلیم مکمل ہوچکی ہے اب میں ملٹری جوائن کرنا چاہتا ہوں" ایک دن سنان نے مجھ سے کہا۔
"ملٹری۔۔۔وہ کیوں؟ میں نے پوچھا۔
"مجھے بہت خواہش ہے آرمی آفیسر بننے کی۔ تب سے جب سے آرمی کی تشکیل ہوئی ہے۔۔۔۔ میرے ابو بھی یہی چاہتے ہیں" سنان نے کہا۔
"مگر آرمی کی ٹریننگ بہت طویل اور مشکل ہوتی ہے۔۔۔کیسے کر پاؤ گے تم؟ میں نے پوچھا۔
"میں کوئی کمزور انسان نہیں جو ٹریننگ کی مشقت نہ سہہ پاؤں۔۔۔یو نو میں ایک سپورٹس مین ہوں۔ ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں مجھے باآسانی شمولیت مل جائے گی آرمی میں" سنان نے کہا۔
"کتنے عرصے کی ٹریننگ ہوتی ہے؟ میں نے پوچھا۔
"ریگولر ٹریننگ ایک سال۔۔۔اس کے بعد اگر سپیشل فورسز کے بنیادی ٹیسٹس پاس کرلیے جائیں تو مزید ایک سال تربیت اور اگر اس کے بعد سپیشل فورسز کی خفیہ ایجنسی کے لیے انتخاب ہوجائے تو اس کے مطابق مزید تربیت"سنان نے کہا۔
"کیا تم سپیشل فورسز کے لیے بھی والنٹیئر کرو گے؟ میں نے پوچھا۔
"جی ہاں۔۔۔کیونکہ میں محض ایک سپاہی نہیں ایک افسر بننا چاہتا ہوں۔ تمام افسران سپیشل فورسز کے انڈر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔۔۔اور انہی کی ایک برانچ سے خفیہ ایجنٹس کی بھرتی ہوتی ہے" سنان نے کہا۔
" میں اتنا عرصہ تم سے بغیر رابطے کے کیسے گزاروں گی۔۔۔؟ میں نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔
"اتنا لمبا عرصہ تو نہیں۔۔۔دو سال کی تو بات ہے بس۔ اور پہلے 6 ماہ چھوڑ کے باقی عرصے میں میں ہر تین ماہ بعد گھر ایک کال کرنے کی اجازت ہے۔ پہلا سال مکمل ہونے پر تین چھٹیاں۔ اور دوسرا سال مکمل ہونے پر ایک ماہ چھٹی بھی" سنان نے کہا۔
"ہمممم صحیح۔۔۔آرمی میں لڑکیاں بھی بھرتی ہوتی ہیں کیا؟ میں نے پوچھا۔
"جی ہاں۔۔۔آرمی اور سپیشل فورسز دونوں میں 10 فیصد کوٹہ فیمیلز کا ہوتا ہے" سنان نے کہا۔
"پھر تو میں تمہیں ہرگز نہیں جانے دونگی" میں نے کہا۔۔۔۔جس پر وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
"میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری تشویش لیکن بات یہ ہے کہ آرمی میں میل اور فیمیل کیڈیٹس کی تربیت الگ الگ مقامات پر ہوتی ہے۔۔سپیشل فورسز میں جوائنٹ ٹریننگ ہوتی ہے لیکن وہ تربیت اس قدر ٹف اور اعصاب شکن ہوتی ہے کہ کسی کے پاس آنکھ اٹھا کر کسی دوسرے کو دیکھنے کی بھی نہ مہلت ہوتی ہے نہ طلب۔ بس ایک ایک دن خیریت سے گزر جائے تو کافی ہوتا ہے" اس نے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینے بعد سنان مجھے اور اپنے والدین کو الوداع کہہ کر ملٹری اکیڈمی کے لیے روانہ ہوگیا۔۔اس کے جانے کے بعد میں نے اپنا تمام فوکس سٹڈیز پے کرلیا۔ میں نے سوچا بجائے ہر وقت اسے سوچنے کے میں بھی اپنی سٹڈیز محنت کرلوں تاکہ وہ دو سال بعد جب کچھ بن کر نکلے تو میں بھی کسی مقام پر پہنچ چکی ہوں۔ لیکن پھر بھی انسان کو جس سے محبت ہو اس کی یادوں کو مکمل طور پر دل کے در و دیوار سے کھرچ پانا ممکن نہیں ہوتا۔
6 ماہ بعد پہلی کال کی اجازت ملنے پر جب سنان نے اپنے گھر کال کی تو اس وقت میں کالج میں تھی اس لیے اس سے کوئی بات نہ ہوسکی ہاں اس کی سلام دعا اور دو ماہ قبل گزرچکی میری برتھ ڈے وش اس کے بھائی نے مجھے پہنچادی۔۔۔۔وقت پر لگا کر اڑتا گیا اور پہلے سال کی تکمیل کے بعد سنان تین دن کی چھٹی پر گھر آگیا۔ مجھ سے ملاقات ہونے پر ایک لمحے کو تو میں گویا اسے پہچان ہی نہ پائی۔ آرمی نے اسے مکمل تبدیل کردیا تھا۔ اب وہ ایک مضبوط جسم کا مالک اور ایک پراعتماد نوجوان تھا جس کے بال آرمی کے بے ڈھنگے انداز میں چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے تھے۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوگئے۔ یہ ملاقات سنان کے گھر میں اس کے اور میرے پیرنٹس کی موجودگی میں ہورہی تھی اس لیے ہمیں نپے تلے الفاظ میں احتیاط کے ساتھ بات کرنی پڑرہی تھی۔ مگر میں اس کو ایک فوجی کے روپ میں دیکھ کر بہت خوش تھی۔۔۔اس کے پیرنٹس کی طرح۔۔۔۔
پلک جھپکنے میں وہ تین دن گزر گئے اور سنان ایک مرتبہ پھر مجھے اداس چھوڑ کر واپس ٹریننگ پر روانہ ہوگیا۔ اب کی مرتبہ اسے سپیشل فورسز کی تربیت کے لیے چن لیا گیا تھا۔
اس دفعہ ہر تین ماہ بعد اسے ایک کال کرنے کی اجازت تھی۔ پہلی سہ ماہی گزرنے کے بعد اس نے میرے گھر کال کی اور اتفاق سے میں اس دن گھر ہی تھی اور سنان سے میری بات ہوگئی۔۔پہلی مرتبہ اس کے لہجے میں انتہا کی تھکاوٹ ، تکلیف اور پریشانی محسوس کی۔۔۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ سپیشل فورسز کی تربیت بہت سخت اور مشکل ترین ہے جس کی وجہ سے اسے مشکل دن دیکھنے پڑرہے ہیں۔
یونہی وقت گزرتا رہا۔۔۔اور اس کی سپیشل فورسز کی ٹریننگ کے اختتام کا وقت بھی قریب آگیا۔۔۔۔
جیسا کہ میں پہلے اپنے ملک کے "خفیہ پن" کے بارے میں بتاچکی ہوں۔۔یہاں پاسنگ آؤٹ کی تقریب تو ہوتی ہے لیکن اس میں کیڈٹس کے والدین یا رشتہ داروں کی شمولیت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ۔ محض ٹی وی اور اخبارات میں بنا تصویر کے ایک کے ایک فقرے میں خبر نشر کردی جاتی ہے کہ ایک اور بیچ پاس آؤٹ ہورہا ہے کل۔اور بس۔
آخر وہ دن آہی گیا جب سنان پاس آؤٹ ہونے کے بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کا بیج لگائے ایک ماہ کی چھٹی پر گھر واپس لوٹ آیا۔ اس کا ایک آرمی افسر بننا دونوں فیملیز کے لیے انتہائی خوشی اور فخر کی بات تھی۔ سنان کے ابو نے اس خوشی میں ایک بڑی پارٹی کا انعقاد کیا جس میں ان کے کولیگز یعنی پولیس آفیسرز کو انکی فیملیز سمیت مدعو کیا گیا تھا۔ اور ظاہر ہے میری فیملی کو بھی۔
اس کی شخصیت میں اب زمین و آسمان کا فرق آچکا تھا۔ کہاں تو وہ کھلنڈرا سا شوخ طبیعت کا نوجوان اور کہاں اب ایک ذمہ دار اور سنجیدہ آرمی آفیسر۔
لیکن کچھ دنوں بعد میں نے محسوس کیا کہ سنان اتنا خوش نہیں کہ جتنا کوئی بھی شخص اس نوعیت کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے بلکہ ایک مسلسل فکرمندی کی کیفیت میں نظر آرہا تھا۔
" کیا بات ہے سنان تم جب سے پاس آؤٹ ہوکے آئے ہو کچھ اپ سیٹ معلوم ہورہے ہو" ایک دن میں نے اس سے پوچھا۔
"بس میرے شعبہ سے متعلق کچھ باتیں ہیں جو مجھے الجھن میں مبتلاء کررہی ہیں" سنان نے کہا۔
"کس بات کی الجھن ہے؟ میں نے پوچھا۔
"میں نے آرمی اور سپیشل فورسز دونوں کی ٹریننگ مکمل کی ہے۔۔۔میری سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے ملک کو اس نوعیت کی طاقتور اور بڑی افواج کی کیا ضرورت ہے۔۔۔اور یہ بھی اب تک ایک راز ہے کہ سپیشل فورسز کی خفیہ برانچ کے ایجنٹس کی تعیناتی کہاں کی جاتی ہے۔۔۔اب تک 70 ایجنٹس شہید ہوچکے ہیں۔ مگر ان کی شہادت کی نہ تو کوئی خبر نشر ہوئی نہ کسی کی میت اس کی فیملی کے حوالے کی گئی اور یہ تک نہیں بتایا گیا کہ ان کی شہادت کیسے کہاں اور کس مشن میں ہوئی" سنان نے کہا۔
"یہ مسلہ جنرل اردلان جانے اور خفیہ برانچ والے جانیں۔۔۔تم خود کو اپنے کیریر کے آغاز میں ہی ان باتوں پر ڈیپریس مت کرو سنان" میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔
"میرا فکر مند ہونا بنتا ہے۔۔۔کیونکہ۔۔۔مجھے خفیہ برانچ کے لیے سلیکٹ کرلیا گیا ہے۔ ایک ماہ کی چھٹی مکمل ہونے کے بعد میری خفیہ برانچ یعنی انٹیلی جنس ایجنسی کی 5 ماہ کی عمومی اور پھر 1 ماہ کی خصوصی تربیت شروع ہوجائے گی" سنان نے کہا۔
"سنان تم اور خفیہ برانچ؟ ۔۔۔لیکن۔۔۔اور یہ عمومی اور خصوصی تربیت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ میں نے ٹوٹے ہوئے الفاظ میں ہلکاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
"یہ ابھی میں بھی نہیں جانتا۔۔۔۔لیکن یہ سب اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آتا ہے۔۔۔ہمیں ایک انتہائی پراسرار اور کنفیوزنگ آفر کی گئی ہے" اس نے کہا۔
"کیسی آفر اور کس کی طرف سے؟" میں نے تیز لہجے میں پوچھا۔
" ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ میں اگر چاہوں تو عمومی تربیت کی تکمیل کے بعد شادی کرسکتا ہوں۔ اس صورت میں مجھے پانچ ماہ کی چھٹی دے دی جائے گی۔ اور اس کے بعد خصوصی تربیت کا آغاز۔۔۔۔۔اب یہ بات حد بھی زیادہ الجھن آمیز ہے کہ انہوں نے مکمل تربیت کے بعد شادی کرنے کا آپشن نہیں دیا بلکہ عمومی اور خصوصی تربیت کے درمیان شادی کی اجازت دی گئی ہے۔۔۔اور یہ سب بہت پراسرار لگ رہا ہے۔۔۔گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ چاہو تو شادی کرلو اور پانچ ماہ اپنی فیملی کے ساتھ گزار لو۔پھر تو تم نے مر ہی جانا ہے۔" سنان نے کہا۔
"سنان کیا تم خفیہ برانچ میں شمولیت سے انکار نہیں کرسکتے؟ میں نے پوچھا۔
"نہیں۔۔۔ایسا کرنے والے پر بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ چلتا ہے جسے وکیل تک کی سہولت نہیں دی جاتی" رون نے کہا۔
"تو پھر کیا بنے گا۔۔۔" میں نے گھبراہٹ میں پوچھا۔
"۔۔۔شاید میں ہی اوور تھنکنگ کررہا ہوں شاید یہ سب بس کسی عسکری حکمت عملی کے قوانین کا حصہ ہو۔۔۔میں خوشدلی سے تربیت لوں گا اور امید ہے سب ٹھیک ہوجائے گا" سنان نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن مجھے صاف محسوس ہوگیا کہ اس کی مسکراہٹ مصنوعی اور یہ سب بس مجھے تسلی دینے کے لیے کہہ رہا تھا۔۔۔اس کے بعد جب بھی ہماری ملاقات ہوئی میں نے سنان کو ہمیشہ تشویش میں ڈوبا پایا اور اس کے الفاظ اور تاثرات میں کبھی مطابقت نہیں ہوتی تھی۔ یوں ہی وہ ایک ماہ گزرگیا۔ اور سنان خفیہ برانچ کی ٹریننگ کے لیے روانہ ہوگیا۔
ان پانچ ماہ میں نہ تو میرا نہ ہی اس کی فیملی کا اس سے کوئی رابطہ ہوپایا۔۔۔اور اس عرصے کے بعد ایک دن بغیر کسی اطلاع کے سنان واپس آگیا۔
اور تب اس کے اور میرے تمام خدشات درست ثابت ہوگئے۔
"ستی میں صرف ایک دن کے لیے اور سب کو الوداع کہنے آیا ہوں۔۔۔مجھے ایک خفیہ مشن کے لیے بھیجا جارہا ہے۔ کہاں اور کب اس کی ہمیں بھنک بھی نہیں لگنے دی گئی۔۔۔ہاں اتنا کہا گیا کہ مشن کا دورانیہ صرف 2 سال ہوگا۔
مشن کہاں کا ہے اور کب سے شروع ہوگا یہ سب اب ہمیں خصوصی تربیت میں بتایا جائے گا۔۔۔اور اس کے فورا بعد ہماری روانگی ہے۔ اور میں روانگی سے قبل کسی سے نہ تو مل کر جاسکوں گا نہ ہی اور کوئی رابطہ اور اطلاع کرکے۔۔۔صرف ایک وصیت لکھنے کی اجازت ہے" سنان بتارہا تھا اور میں اس وقت کو کوس رہی تھی جب میں اس کو آرمی جوائن کرنے سے روک سکتی تھی مگر نہیں روکا۔
" مجھے یہ سب بالکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔اور میں تمہارے بغیر نہیں رہ پاؤں گی" میں نے آنسو بہاتے ہوئے اس سے کہا۔
"ستی پریشان ہونے کی بات نہیں۔۔۔بس 2 سال کی بات ہے۔
اور ظاہر ہے میری تعیناتی جتنی بھی دور ہوئی اندرون ملک ہی کہیں ہوگی۔ ہم کسی جنگ سے تو گزر نہیں رہے کہ مجھے کسی محاذ پر بھیج دیا جائے گا۔۔۔۔مشن سے واپس آتے ہی ہم شادی کرلیں گے۔ پرامس" سنان نے کہا۔۔۔لیکن میں بدستور آنسو بہاتی رہی۔
اسی شام سنان مجھے اور اپنے خاندان کو انجانی اذیت میں چھوڑ کر واپس لوٹ گیا۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ٹھیک 2 ماہ 7 دن بعد اس کی موت کی اطلاع آگئی اور میرے سب بھیانک خدشات سچ ہوگئے۔
اور حسب معمول۔۔۔نہ تو سنان کا جسد خاکی واپس دیا گیا نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اسے کہاں دفن کیا گیا ہے۔ ۔۔۔وہ کس مشن پر اور کہاں تعینات تھا یہ پتا چلنا تو دور کی بات تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ستی بیٹا کب تک اس غم میں خود کو گھلاتی رہو گی۔ ایک ہفتہ ہوگیا تمہیں خود کو یوں اپنے کمرے تک محدود کرکے روتے ہوئے۔تمہارے رونے سے سنان واپس تو نہیں آجائے گا ناں"اس شام امی نے آکر کہا لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا نہ ہی بیڈ سے اٹھی۔
"اچھا سنو۔۔۔ ایمر تم سے ملنے آیا ہے۔ شاید کوئی بات کرنی ہو اس نے۔ ایک دفعہ آکے مل لو۔"امی نے کہا۔
"اوکے ماما آرہی ہوں"میں نے بدستور لیٹے ہوئے کہا۔۔۔۔اور امی چلی گئیں۔
کچھ دیر بعد میں بستر سے اٹھی اور اٹیچ باتھ کی طرف بڑھ گئی۔۔منہ دھویا اور بال درست کیے اور ڈرائنگ روم میں چلی گئی جہاں سنان کا بڑا بھائی ایمر میرا منتظر تھا۔
"کیسی طبیعت ہے ستی؟ ایمر نے مجھ سے پوچھا۔
"پتا نہیں" میں نے مختصر جواب دیا۔
"انکل نے بتایا تھا کہ اس دن سے مسلسل تمہاری طبیعت ناساز ہے اس لیے پوچھنے آگیا۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آرہی کہ کن الفاظ میں تم سے تعزیت کروں۔ میں نے بھی اپنا بھائی کھویا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کسی کے الفاظ ہمارے زخموں کا مرہم نہیں بن سکتے" ایمر نے کہا۔
میں خاموش رہی اور نظر جھکائے قالین کو گھورتی رہی۔۔۔۔۔
کافی دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔
"ایسے دردناک حادثات کے بعد اگر انسان خود کو غم کے دھارے میں بہنے دے تو ہمیشہ کے لیے ٹوٹ کے بکھر جاتا ہے ۔۔۔ تمہیں اپنے آپکو سنبھالنا ہوگا" ایمر نے کہا۔
"کس لیے؟ ایک نامکمل اور ہاری ہوئی زندگی گزارنے کے لیے؟ میں نے پوچھا۔
"تو تمہارے نزدیک سنان کے بغیر تمہاری زندگی ہمیشہ نامکمل رہے گی؟ ایمر نے پوچھا ۔
"ہمممممم۔۔۔۔" میں نے کہا۔
"تو پھر اپنی اس نامکمل زندگی کو کوئی مقصد دو۔۔۔۔۔جو سنان نہ مکمل کر سکا اسے تم پایہ تکمیل تک پہنچاؤ" ایمر نے کہا۔
"سس سوری۔۔۔کیا مطلب؟ میں نے پوچھا۔
ایمر میرے قریب آیا اپنے جیب سے کوئی چیز نکال کر اپنی بند مٹھی سے مجھے تھماکر میری مٹھی بھی بند کردی گویا وہ یہ نہ چاہتا ہو کہ میں اس کی دی ہوئی چیز اس کے سامنے دیکھوں۔
"گڈ لک ستی۔۔۔"اس نے میرے کندھے پے ہاتھ رکھ کر مجھے جھنجھوڑا اور باہر چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد میں نے اسکی طرف سے مجھے تھمائی گئی چیز دیکھی۔۔۔وہ ایک دھاتی بیج تھا۔۔۔جس پر سنہری الفاظ میں "سپیشل فورسز اور GLO" کے الفاظ چمک رہے تھے۔
(جاری ہے۔۔۔۔)#

Comments

Popular posts from this blog

مسافر قسط نمبر 1

مسافر۔۔۔۔قسط 1 (ستونت کور) وہ ایک سہانی صبح تھی جب میں اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر چائے پینے کے ساتھ ساتھ اخبار کا مطالعہ کررہی تھی۔ شہ سرخی تھی "پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے دو جنگی طیارے مارگرانے کا دعوی کیا ہے۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی فضائی حدود میں گرایا گیا۔ تباہ شدہ طیارے کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس کی شناخت ونگ کمانڈر ابھینندن پتا چلی ہے... " ساتھ ہی تباہ شدہ طیارے اور گرفتار پائلٹ کی تصاویر دی گئی تھیں۔ ایک دوسری خبر تھی "عالمی طاقتوں نے پاکستان اور بھارت سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ہردو ممالک میں کشیدگی مزید بڑھی تو ایک فل سکیل جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے جس کا انجام ایٹمی جنگ اور ایک عالمگیر بحران کی صورت میں نکل سکتا ہے"۔ "اففف یہ جنونی ہمسائے۔۔۔۔یہ لوگ جنگ چھیڑدیں گے اور نتیجہ نیوکلیر ونٹر کی صورت نکلے گا اور ہمارا سارے کا سارا مشن فلاپ۔ جس پر اب تک بہت بھاری سرمایہ لگ چکا ہے اور پوری دنیا میں ہزاروں ایجنٹوں کی تعیناتی اور کئی سال کی محنت پر بیٹھے بٹھائے پانی پھر جائے گا"۔ میں نے سو...
ھا مسافر اردو ناول ناول.....مسافر مکمل ناول لنک مصنفہ......ستونت کور #ستی ایک مکمل نئی سٹوری اور پلاٹ پر مبنی نئے ناول پر کام شروع کردیا۔ جو کہ ایک ایکشن +سائنس فکشن +جاسوسی+ لو سٹوری پر مبنی ناول ہے۔ اس ناول میں آپکو ملٹری، سپیشل فورسز، خفیہ ایجنسیز اور ان کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلا ان معلومات کا علم ہوجائے گا جو آپ کو کسی کتاب۔۔کسی ڈاکومینٹری یا کسی ٹی وی پروگرام سے اکھٹی نہیں حاصل ہوسکتیں۔ " "مسافر" جنگ عظیم سوم سے متعلق ہے جو مستقبل ہے۔ سو۔۔۔ستی از بیک ان ایکشن۔ اس ناول میں آپکو سنائپر ناول کی طرح کیڈٹس کی تیاری تربیت اور اسلحہ کے بارے میں مکمل اور درست معلومات ملیں گی.... ناول کے ساتھ اپکی سپیشل فورسز انٹیلیجنس اور اسلحے کے متعلق بہت ساری معلومات میں بھی اضافہ ہوگا ..... ناول پڑھنے کیلئے ہمیں فالو کرلیں....شکریہ مسافر۔۔۔قسط 5 (ستونت کور) ایک پورے دن کے وقفے کے بعد ہماری "ایڈوانسڈ ملٹری ٹریننگ" کا آغاز ہورہا تھا۔ ایک تبدیلی یہ آئی کہ اب ہمیں مزید اکیلا بھی نہیں رہنا پڑنا تھا۔ بیسک ملٹری ٹریننگ مکمل کرچکی سب کیڈٹس کو نئے...

مسافر۔۔۔قسط 3

مسافر۔۔۔قسط 3 (ستونت کور) وہ ساری رات میں نے جاگتے اور یہی سوچتے گزاردی کہ مجھے بھی آرمی کے لیے اپلائے کردینا چاہیے۔ "میں سنان کو واپس تو نہیں لاسکتی لیکن اس کے قاتلوں سے انتقام ضرور لے سکتی ہوں۔.اور اس کا ادھورا مشن مکمل کرسکتی ہوں۔۔۔اگر میں آرمی میں نہ گئی تو سنان کی موت پوری زندگی میرے لیے ایک معمہ ہی بنی رہے گی۔ میں کبھی یہ نہیں جان پاؤں گی کہ سنان کس مشن پر اور کہاں تعینات تھا اور اسکی موت کیسے واقع ہوئی" میں سوچ رہی تھی۔ صبح ناشتے پر کئی دن بعد میں ڈائننگ ٹیبل پر پہنچی۔۔سب نے مجھے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا یہ سوچ کے کہ میں اس شاک سے سنبھل چکی ہوں۔ میں ایک چیئر پر بیٹھ گئی لیکن کھانے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ "ستی بیٹا کچھ لو ناں" امی نے کہا۔ "مجھے بھوک نہیں" میں نے جواب دیا۔ "یہ جملہ پچھلے 7 دن میں کوئی ستر دفعہ تم سے سن چکی ہوں۔ پر جینے کے لیے کھانا تو پڑتا ہی ہے بھلے ہی کوئی کتنا بھی ڈیپریسڈ کیوں ناں ہو" امی نے کہا۔ "ابو۔۔۔" میں نے ابو کو پکارا۔ "جی بیٹا" انہوں نے جواب دیا۔ "میں ...