Skip to main content

مسافر۔۔۔ قسط 4

مسافر۔۔۔ قسط 4
(ستونت کور)
اس دن سے میری عسکری زندگی کا آغاز ہوگیا۔ اکیڈمی میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوا گویا میں کسی نئی دنیا میں آگئی ہوں۔ یہ اکیڈمی بہت وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ سب سے پہلے ہماری شناختی و تعلیمی دستاویزات انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیں جس کے بعد مجھے اور میرے بیچ کی کل 200 نیو کیڈٹس کو ایک سینینئر افسر نے تفصیلی بریفنگ دی جس میں سب سے پہلے ہمیں ویلکم کیا گیا اور پھر اکیڈمی میں ہمارے قیام کے دوران ٹریننگ کے مراحل کے بارے میں بتایا گیا اور ساتھ ہی اکیڈمی کے قوائد و ضوابط اور قوانین سے آگاہ کیا گیا۔۔۔بریفنگ کے بعد ہمیں رہائش گاہوں کیطرف لیجایا گیا اور کمرے الاٹ کردیے گئے جہاں ہمارا سامان پہلے ہی پہنچا دیا گیا تھا۔
یہاں مجھے ایک نیا حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔۔سب نیو کیڈٹس کو الگ کمرے الاٹ کیے گئے۔ یعنی 6 ماہ تک ہمیں ٹریننگ کے بعد بھی الگ ہی رہنا تھا۔ گویا نئی کیڈٹس کو سخت آئسولیشن کا سامنا کرنا پڑنا تھا تاکہ انکی شخصیت میں مزید مضبوطی آجائے۔
اس مرحلے کے بعد ہمیں ہماری Kits ایشو کردی گئیں جن میں ہماری وردیاں، فوجی بوٹ اور ہیلمٹ ،بیگ اور دیگر سامان شامل تھا۔۔۔۔ساتھ ہی ایک نئی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے بہت شوق سے لمبے بال رکھے ہوئے تھے جنہیں ایک سینیئر کیڈٹ نے چھوٹا کروانے کا حکم صادر کردیا۔ یہ حکم سب کیڈٹس کے لیے ایک سا تھا۔۔۔باربر شاپ سے نکلتے وقت بمشکل کندھوں تک کی لمبائی میں بال باقی رہ گئے۔
لیکن یہ تو آرمی کے لیے دی گئیں قربانیوں کا محض آغاز تھا۔
اگلی صبح سے ہماری ٹریننگ کا آغاز تھا۔۔۔۔
صبح 3 بجے ہمیں ایک خود کار الارم کے ذریعے جگا دیا گیا جو سب کمروں میں نصب تھا۔ ہمارے پاس تیاری کے لیے ایک گھنٹا تھا جس کے بعد ہمیں پی ٹی کے لیے پی ٹی سکوائر پہنچنا تھا۔۔۔گویا ناشتے سے بھی ایک گھنٹا پہلے جسمانی مشقت کا آغاز۔
ہم جلد از جلد تیاری مکمل کرکے یونیفارمز زیب تن کرکے پی ٹی سکوائر پہنچیں جہاں پہلے دن کی بریفنگ میں سٹاف نے ہمیں آگاہ کیا "جیسے آپ لوگ عام دنوں میں فٹ رہنے کے لیے مارننگ ایکسرسائز کرتے ویسے ہی آرمی میں مارننگ پی ٹی کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ آپ پورا دن چاق و چوبند چست اور متحرک رہ سکیں"۔
پی ٹی کے اختتام کے بعد ہمیں میس جانے کا حکم ہوا جہاں ناشتہ اور ڈنر کرنے کے لیے صرف 20 منٹ کا وقت دیا جاتا ہے۔ بھلے آپ نے ان بیس منٹ میں کھانا مکمل نہ بھی کیا ہو تب بھی 20 منٹ بعد گھنٹی بجتے ہی اٹھنا پڑتا ہے۔
ناشتے کے فورا بعد ہمیں"ڈرل سکوائر" میں اکھٹا ہونے کا حکم ہوا۔۔۔جہاں ڈرل کلاسز یعنی سب کیڈٹس کو عسکری انداز اور ترتیب سے مارچ کرنے ایک ساتھ قدم زمین پر مارنے۔ اور اس سے جڑے تمام عسکری انداز سکھائے جاتے ہیں۔ ڈرل ماسٹر ایک انتہائی سخت گیر ٹرینر تھے جو معمولی سے معمولی غلطی ہر کیڈٹس کو بری طرح سے جھڑک دیا کرتے تھے۔
ڈرل کلاس کی تکمیل کے بعد ہمیں باقاعدہ ملٹری کلاسز اٹینڈ کرنی ہوتی تھیں جن میں مختلف آفیسرز۔ ملٹری، جنگ، ڈسپلن، عسکری جغرافیہ ،عسکری نقشہ سازی اور نقشے کا استعمال، مختلف ہتھیاروں کی تفصیلات پر لیکچر دیتے تھے۔۔۔یہ کلاسز دوگھنٹے کی ہوتی۔۔لیکچرز کے لیے مختلف چارٹس، سلائیڈز، ماڈلز اور ڈیوائسز کا استعمال کیا جاتا تھا۔۔۔لیکچر کے دوران کسی بھی کیڈٹ کو کھڑا کرکے تب تک ہوچکے لیکچر سے متعلق سوالات پوچھے جاتے تھے۔ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اسے شام کو ایکسٹرا کلاسز اٹینڈ کرنی پڑتیں۔
کلاسز کی تکمیل کے بعد کیڈٹس کو میدان میں جانا ہوتا تھا۔۔۔پہلے ایک مہینے کوئی ہتھیار چلانے کی تربیت نہ دی گئی۔ ہاں ہمیں ہتھیار یعنی سروس اسالٹ گنز دیے ضرور گئے۔ اس پہلے مہینے میں سب کیڈٹس کو لاتعداد جسمانی ورزشوں اور آبسٹیکلز سے گزرنا پڑا تاکہ سب کی نزاکتیں اور کمزوریاں خیرباد ہوجائیں۔ شروع شروع میں یہ آبسٹیکلز تعداد میں کم اور کم مشکل تھے مگر گزرتے وقت کے ساتھ انکی تعداد اور مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا۔
ان میں سے کچھ آبسٹیکلز ایسے تھے:
مختلف اونچائیوں پر مبنی دیواریں جن پر سے کود کر یا بغیر رکے چڑھ کر کراس کرنا ہوتا ہے۔
خادرار تاروں سے بنی سرنگ کو کہنیوں اور گھٹنوں کے بل "کرالنگ" کرکے پار کرنا۔۔۔سرنگ میں قصدا ڈھیر ساری بجری اور پتھر ڈال دیے جاتے تھے۔
25 فٹ بلند آہنی سانچے پر بذریعہ روپ نیٹ چڑھ کے دوسری طرف سے اترنا۔
ٹارزن سوئنگ یعنی بھاگتے ہوئے رسی کی مدد سے خندق کو پھلانگ کر گزرنا۔
منکی برج۔۔۔یعنی دو پولز پر اوپر نیچے لگی دو متوازی رسیوں پر سے ایسے گزرنا کہ اوہر والی رسی کو تھام کے نچلی رسی پر قدم رکھنا۔
ہائی جمپ اور لانگ جمپ کی آبسٹیکلز۔۔۔۔
گزرتے وقت کے ساتھ آبسٹیکلز کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ جیسے کیچڑ بھرے تالاب میں کرالنگ کرکے گزرنا ۔۔۔۔اور بھڑکتی آگ والے لوہے کے دائرے میں سے جمپ کرنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے دن ہی سب نیو کیڈٹس کے جسم تھکاوٹ سے چور اور خراشوں سے بھرے تھے۔ اور ان زخموں اور خراشوں میں ہر روز ضرور اضافہ ہوتا تھا۔۔۔ایک ہفتے بعد یہ حال ہوگیا کہ جسم کے ایک ایک انگ ایک ایک ہڈی میں درد ایسے بیٹھ گیا کہ 24 گھنٹے سوتے جاگتے درد محسوس ہوتا۔ اور ابھی تو ہتھیاروں کی تربیت کا آغاز تک نہیں ہوا تھا۔۔۔۔جتنا بھی درد کیوں نہ ہو کسی کیڈٹ کو کوئی پین کلر میڈیسن نہیں فراہم کی جاتی تھی۔ اور تو اور چھوٹے زخموں اور خراشوں کے لیے بینڈیج تک کی سہولت نہیں تھی۔۔۔۔بقول ٹرینر "ان زنانہ نزاکتوں کو بھول جاؤ یہاں آپ کو دو مردوں کے برابر طاقتور و باصلاحیت بننا ہے"۔ یہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی تھی جس پر بطور سزا اگلی صبح مجھے تین کے بجائے 2 بجے جاگنا پڑا۔
لنچ کے بعد سارا کام وہیں سے شروع ہوجاتا تھا جہاں چھوڑا گیا ہوتا۔اس مرحلہ کے اختتام کے بعد ایک گھنٹے کی بریک ہوتی تاکہ کیڈٹس آرام کرلیں۔۔اور جن کیڈٹس کو طبی امداد کی ضرورت ہو وہ فراہم کردی جائے۔
بریک کے بعد اگلی کلاس بغیر ہتھیار لڑنے کی ٹریننگ کی ہوتی تھی۔۔۔یعنی کراٹے، بیسک مارشل آرٹس اور خنجر کا استعمال۔۔۔شروع شروع میں ان سب کی بنیادی تربیت دی گئی جو گزرتے وقت کے ساتھ سخت تربیت میں بدلتی گئی۔
ان کلاسز کے اختتام کے بعد ایک مختصر وقفے کے بعد سپورٹس کا آغاز ہوجاتا۔۔۔۔ہر کیڈٹ کے لیے دو سپورٹس میں شرکت کرنا لازمی ہوتا تھا۔
اس کے بعد 2 گھنٹے فری ہوتے جس میں کیڈٹس کینٹین، اکیڈمی کے سینما ہال یا لائبریری میں جاکر کچھ وقت تفریح کرسکتے تھے۔۔۔۔میس میں ڈنر کی گھنٹی بجتے ہی سب کیڈٹس ڈنر کے لیے میس کا رخ کرتیں۔اور ڈنر کے بعد جلد ہی سونے کا وقت ہوجاتا۔
ایک ہفتہ گزرتے گزرتے کیڈٹس کے اعصاب ٹوٹنا شروع ہوچکے تھے۔۔۔کہاں گھر کے نرم و گرم بستر اور گھروالوں کی کئیر اور محبتیں اور کہاں پورا دن جسم کو توڑ دینے والی جسمانی مشقت اور ٹرینرز کی جھڑکیاں اور طعنہ آمیز ڈانٹ اور تھکاوٹ ایسی کے دل کرے آج رات سوئیں تو پھر کبھی نہ جاگیں۔ اب تو شاید کوئی رات ہی ایسی گزرتی ہو جب سونے سے قبل تقریبا تمام نیو کیڈٹس پر آنسو بہانے کی نوبت نہ آتی ہو۔
پہلا مہینہ گزرتے گزرتے ہم میں دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوچکی تھیں۔۔۔جسم میں دھیرے دھیرے ایک سختی اور چستی آچکی تھی بھلے ہی پورا جسم چھوٹے بڑے زخموں سے بھرچکا تھا۔
اور دوسرا اعصابی طور پر کئی کیڈٹس بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔ہم تکلیف دہ مشقتوں کی ان گھڑیوں میں صحیح طرح سے ایک دوسرے کا سہارا بھی نہیں بن سکتی تھیں کیونکہ رات کو سب کے کمرے الگ تھے اور دن کے وقت ماسوائے شام کو تفریح کے دوگھنٹوں کے آپس میں بات کرنا بھی محال تھا۔
۔۔۔۔۔۔
دوسرا مہینہ شروع ہوتے ہی ہتھیاروں کی تربیت کا اغاز ہوگیا۔ پہلے بنیادی اور روزمرہ کے ہتھیاروں جیسے اسالٹ رائفل اور آرمی پسٹل وغیرہ کی تربیت شروع ہوئی جس میں ہتھیاروں کو کھولنا، جوڑنا، صاف کرنا، لوڈ کرنا اور پھر نشانہ بازی شامل تھے۔۔۔۔گزرتے دنوں کے ساتھ ہمیں نئے سے نئے مختلف انفینٹری ہتھیاروں کی تربیت دی جاتی رہی جن میں مختلف قسم کی گنز جیسے ۔۔۔سیمی آٹو میٹک پسٹلز۔۔۔ Sub-Machine Guns...کاربین۔۔۔۔بیٹل رائفلز۔۔۔۔لائیٹ مشین گن۔۔۔۔اینٹی میٹریل رائفلز۔۔۔۔مشین گنز ۔۔۔اور انڈر بیرل گرینیڈ لانچرز وغیرہ شامل تھے۔
اگلا مرحلہ دستی بموں یعنی ہینڈ گرینیڈز کی تربیت کا تھا جس میں مختلف قسم گرینڈز جیسے اینٹی پرسن گرینڈز۔۔۔اینٹی ٹینک گرینیڈز۔۔۔۔فلیش گرینیڈ۔۔۔۔سموک گرینیڈز اور انسینڈری گرینڈز شامل تھے۔
ایک ایک ہتھیار میں مہارت لانے کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے۔ اور صرف ہتھیار چلانا ہی نہیں اس پر بہتر نشانہ بنانا۔اور سیچویشن کے مطابق صحیح ہتھیار کا استعمال سب کچھ ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔اکیڈمی کے باقی تمام معمولات اسی طرح سے جاری تھے۔اور وقت گزرتا جارہا تھا۔ اب کیڈٹس میں کافی چستی اور مضبوطی آتی جارہی تھی۔۔۔مگر مجھے گھر اور فیملی کی اب بھی حد سے زیادہ یاد آتی تھی اور چھے ماہ گزرنے سے قبل ان سے کوئی رابطہ ممکن نہ تھا۔۔۔۔۔
خدا خدا کرکے بیسک ملٹری ٹریننگ یعنی پہلے 6 ماہ کے کورس کا اختتام ہوا۔ اور مزید خوشی کی بات یہ تھی کہ اب ہم گھر ایک کال کرسکتے تھے جس کا دورانیہ صرف 15 منٹ دیا جاتا تھا۔ کیڈیٹس کو باری باری ایک فون روم میں بھیج کر 15 منٹ کال کی سہولت دی جاتی۔۔۔اس روم کو خاص طور پر ساونڈ پروف بنایا گیا تھا کیونکہ 6 ماہ کی خوفناک مشقتوں اور تکالیف سہنے کے بعد جب والدین سے پہلی مرتبہ بات ہوتی تو اکثر کیڈٹس کا حوصلہ جواب دے جاتا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتیں ۔ انہیں خفت سے بچانے کے لیے فون روم کو ساونڈ پروف رکھاگیا تھا۔
کافی انتظار کے بعد میری کال کرنے کی باری آئی۔۔۔۔۔میں اندر داخل ہوئی جہاں ایک ٹیبل پر فون نصب تھا جس کے ساتھ ایک ہی چیئر پڑی تھی۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے گھر کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔کال جارہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا۔
میں نے ایک کے بعد دوسری دفعہ ٹرائی مگر کئی دفعہ ملانے پر بھی کسی نے کال نہ سنی۔۔۔لگتا ہے سب کہیں گئے ہوئے ہیں۔ میں نے پریشانی سے سوچا۔۔۔اور ابو کے پولیس سٹیشن کا نمبر ڈائل کردیا۔
"ویسٹ ووڈز پولیس سٹیشن۔۔۔سب انسپکٹر ایمر از اٹینڈنگ یو" رابطہ ہوتے ہی آواز آئی۔
"ایمر میں ستی بول رہی ہوں۔۔۔ابو سے بات کروادو۔ میرے پاس کال کا وقت کم ہے" میں نے بے چین لہجے میں کہا۔
"اوہ ستی یہ تم ہو؟ سر تو ایک Raid پر گئے ہیں ان سے بات ممکن نہیں سوری۔۔۔۔کیا حال ہے تمہارا اور ٹریننگ کیسی چل رہی ہے تمہاری؟ ایمر نے پوچھا۔
"بس کیا کہوں فی الحال تو میں بریکنگ پوائنٹ کے کنارے پر ہوں پتا نہیں آگے کی ٹریننگ سہہ پاؤں یا نہیں۔۔۔۔6 ماہ بعد ایک کال کی اجازت ملی لیکن نہ گھر کوئی کال پک کررہا ہے نہ ہی ابو سے بات ہو پائی" میں نے مایوس لہجے میں کہا۔
"ستی پلیز حوصلہ رکھو 6 ماہ یہ سب سہہ لیا تو آگے بھی کرلو گی۔۔۔۔آئی ایم سو سوری یہ سب میری غلطی ہے نہ میں تمہیں اس دن آرمی کا راستہ دکھاتا اور نہ آج تم اتنی تکلیف میں ہوتی"ایمر نے شرمندہ لہجے میں کہا۔
"اوکے ایمر اب میں فون رکھ رہی ہوں" میں نے کہا۔
"پندرہ منٹ ملے جو ہیں تو بات کرلو کچھ دیر" ایمر نے کہا۔
"وہ پندرہ منٹ فیملی سے بات کے لیے ملتے ہیں غیر متعلقہ افراد سے بات کے لیے نہیں" میں نے خفگی آمیز لہجے میں کہا۔۔۔۔۔"ستی تم چھے ماہ سے آئسولیشن اور مشقت سہہ رہی ہو۔ اس دوران وہاں یا تو اجنبی کیڈٹس سے رابطہ رہا ہوگا تمہارا یا پھر کھٹور سخت دل ٹرینرز سے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ تمہارے دل پے بہت بوجھ ہوگا۔ اسی لیے بات کرنے کا کہا کہ 6 ماہ اجنیوں میں رہ کر کسی جاننے والے سے کچھ دیر بات کرلوگی تو شاید کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہوجائےاور کچھ ریلکیس محسوس کرو۔۔۔۔لیکن تم ابھی تک اسی بات کو لے کے خفا ہو" ایمر نے کہا۔
"آرمی میں آنا میری اپنی چوائس تھی اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔۔۔اور میں باقی کی ٹریننگ بھی مکمل کرہی لوں گی۔۔۔دکھ مجھے صرف اس بات کا ہوا تھا کہ تم نے اپنی طرف سے مجھے تو آگے دھکیل دیا لیکن خود دس قدم پیچھے ہٹ گئے۔۔۔خیر جو ہوا سو ہوا۔۔۔۔یہ بتاؤ سب انسپکٹر کب سے بن گئے؟ میں نے کہا۔
"بس ایک ماہ قبل ہی پروموشن ہوئی ہے"ایمر نے جواب دیا۔
"مبارک ہو پروموشن کی۔۔۔اچھا کال کا وقت کم رہ گیا ہے میرا بہت بہت سلام دعا میرے پیرنٹس اور بہن بھائیوں کو پہنچادینا۔ اور انہیں بتانا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور ٹریننگ اچھی چل رہی ہے۔۔۔۔یہ مت کہنا کہ میں اپ سیٹ یا ایگزاسچن کا شکار ہوں۔۔۔اور اپنے ماما پاپا کو بھی میرا سلام اور تمہاری پروموشن کی مبارکباد پہنچادینا۔۔۔اوکے بائے" میں نے بات مکمل کی اور فون رکھ دیا۔
"لگتا ہے پولیس میں ڈھیٹائی کو بھی کارکردگی سمجھا جاتا ہے اور اس بنیاد پر بھی پروموشنز دی جاتی ہیں" میں نے زیر لب کہا اور باہر کی طرف بڑھ گئی
(جاری ہے۔۔۔۔۔)

Comments

Popular posts from this blog

مسافر قسط نمبر 1

مسافر۔۔۔۔قسط 1 (ستونت کور) وہ ایک سہانی صبح تھی جب میں اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر چائے پینے کے ساتھ ساتھ اخبار کا مطالعہ کررہی تھی۔ شہ سرخی تھی "پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے دو جنگی طیارے مارگرانے کا دعوی کیا ہے۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر کی فضائی حدود میں گرایا گیا۔ تباہ شدہ طیارے کے پائلٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس کی شناخت ونگ کمانڈر ابھینندن پتا چلی ہے... " ساتھ ہی تباہ شدہ طیارے اور گرفتار پائلٹ کی تصاویر دی گئی تھیں۔ ایک دوسری خبر تھی "عالمی طاقتوں نے پاکستان اور بھارت سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ہردو ممالک میں کشیدگی مزید بڑھی تو ایک فل سکیل جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے جس کا انجام ایٹمی جنگ اور ایک عالمگیر بحران کی صورت میں نکل سکتا ہے"۔ "اففف یہ جنونی ہمسائے۔۔۔۔یہ لوگ جنگ چھیڑدیں گے اور نتیجہ نیوکلیر ونٹر کی صورت نکلے گا اور ہمارا سارے کا سارا مشن فلاپ۔ جس پر اب تک بہت بھاری سرمایہ لگ چکا ہے اور پوری دنیا میں ہزاروں ایجنٹوں کی تعیناتی اور کئی سال کی محنت پر بیٹھے بٹھائے پانی پھر جائے گا"۔ میں نے سو...
ھا مسافر اردو ناول ناول.....مسافر مکمل ناول لنک مصنفہ......ستونت کور #ستی ایک مکمل نئی سٹوری اور پلاٹ پر مبنی نئے ناول پر کام شروع کردیا۔ جو کہ ایک ایکشن +سائنس فکشن +جاسوسی+ لو سٹوری پر مبنی ناول ہے۔ اس ناول میں آپکو ملٹری، سپیشل فورسز، خفیہ ایجنسیز اور ان کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلا ان معلومات کا علم ہوجائے گا جو آپ کو کسی کتاب۔۔کسی ڈاکومینٹری یا کسی ٹی وی پروگرام سے اکھٹی نہیں حاصل ہوسکتیں۔ " "مسافر" جنگ عظیم سوم سے متعلق ہے جو مستقبل ہے۔ سو۔۔۔ستی از بیک ان ایکشن۔ اس ناول میں آپکو سنائپر ناول کی طرح کیڈٹس کی تیاری تربیت اور اسلحہ کے بارے میں مکمل اور درست معلومات ملیں گی.... ناول کے ساتھ اپکی سپیشل فورسز انٹیلیجنس اور اسلحے کے متعلق بہت ساری معلومات میں بھی اضافہ ہوگا ..... ناول پڑھنے کیلئے ہمیں فالو کرلیں....شکریہ مسافر۔۔۔قسط 5 (ستونت کور) ایک پورے دن کے وقفے کے بعد ہماری "ایڈوانسڈ ملٹری ٹریننگ" کا آغاز ہورہا تھا۔ ایک تبدیلی یہ آئی کہ اب ہمیں مزید اکیلا بھی نہیں رہنا پڑنا تھا۔ بیسک ملٹری ٹریننگ مکمل کرچکی سب کیڈٹس کو نئے...

مسافر۔۔۔قسط 3

مسافر۔۔۔قسط 3 (ستونت کور) وہ ساری رات میں نے جاگتے اور یہی سوچتے گزاردی کہ مجھے بھی آرمی کے لیے اپلائے کردینا چاہیے۔ "میں سنان کو واپس تو نہیں لاسکتی لیکن اس کے قاتلوں سے انتقام ضرور لے سکتی ہوں۔.اور اس کا ادھورا مشن مکمل کرسکتی ہوں۔۔۔اگر میں آرمی میں نہ گئی تو سنان کی موت پوری زندگی میرے لیے ایک معمہ ہی بنی رہے گی۔ میں کبھی یہ نہیں جان پاؤں گی کہ سنان کس مشن پر اور کہاں تعینات تھا اور اسکی موت کیسے واقع ہوئی" میں سوچ رہی تھی۔ صبح ناشتے پر کئی دن بعد میں ڈائننگ ٹیبل پر پہنچی۔۔سب نے مجھے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا یہ سوچ کے کہ میں اس شاک سے سنبھل چکی ہوں۔ میں ایک چیئر پر بیٹھ گئی لیکن کھانے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ "ستی بیٹا کچھ لو ناں" امی نے کہا۔ "مجھے بھوک نہیں" میں نے جواب دیا۔ "یہ جملہ پچھلے 7 دن میں کوئی ستر دفعہ تم سے سن چکی ہوں۔ پر جینے کے لیے کھانا تو پڑتا ہی ہے بھلے ہی کوئی کتنا بھی ڈیپریسڈ کیوں ناں ہو" امی نے کہا۔ "ابو۔۔۔" میں نے ابو کو پکارا۔ "جی بیٹا" انہوں نے جواب دیا۔ "میں ...